ابنا: رپورٹ کےمطابق دفاع مقدس کے دوران معذور ہونے والے افراد اور ان کے اہل خانہ نے آج رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سےملاقات کی جن کےحرام مغزکونقصان پہنچاہے۔اس موقع پر رہبر انقلاب اسلامی نے جنگی معذوروں کی قدردانی کو ایثار و قربانی کی قدردانی قرار دیا اور فرمایا کہ جنگي معذوروں کی تعظیم و تکریم سے معاشرےمیں حقیقی ایثار وقربانی کااصل مفہوم مجسم ہوجاتا ہے اور یہ کام بہت اہمیت کا حامل ہے جس کی نظام اور معاشرے کو سخت ضرورت ہے۔آپ نے فرمایا کہ اسلام و انقلاب کے لئے اپنے وجود ، سلامتی اور آسائش کو قربان کردینا پرودرگار عالم کے ساتھ نہایت سودمند تجارت ہے جس کی بشارت اللہ تعالی نے قرآن کریم میں دی ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں جنگي معذوروں کے اہل خانہ کا شکریہ ادا کیا اور ان کے تئيں احترام کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ جنگي معذوروں کی مخلصانہ اور خندہ پیشانی کے ساتھ کی جانے والی خدمت عظیم ترین جہاد اور ایثار میں شامل ہے اورخدا وند کریم کے نزدیک اس کا بہت بڑا اجرہے۔اس موقع پرآپ نے شہدا کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور فرمایا کہ جنگ میں جن کےحرام مغزکوستر ستر فی صد تک نقصان پہنچاہے وہ شہادت سے زیادہ سخت ہے کیونکہ اس طرح کے جنگی معذوروں کو مستقل مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور ان کامسلسل تقوی ، صبر اور استقامت اور ان مشکلات کواللہ کےلئےبرداشت کرناان کےلئےاجرعظیم کاباعث ہوگا۔.............
/169